
انیسویں صدی کی دلی میں، شاہ عبد القادر کے مدرسے کا ایک طالب علم اور شاہی طبیبوں کا جانشین طب، علمِ نجوم اور شطرنج کے ساتھ ساتھ عشق کی نفسیات کو غزل کے سانچے میں اتارتا ہے۔ اس دیوان میں زمینی محبت، اغیار کی موجودگی اور وصل و ہجر کے معاملات کو بالواسطہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اس مجموعے میں شامل "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا"، "اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا" اور "ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم" جیسی غزلیں محبت کے رشتوں میں چھپے شکووں، جنسی میلانات اور رازوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان غزلوں کی تعمیر خالص زبان اور گہرے تخیلاتی پیکروں سے ہوئی ہے۔
یہ انیسویں صدی (1800–1852) کے اس کلام پر مبنی ہے جس کے محض ایک شعر پر مرزا غالب اپنا پورا دیوان نچھاور کرنے پر آمادہ تھے۔ یہ اردو ادب میں دہلی اسکول کی کلاسیکی غزل اور مغل دور کے درباری ادب کا ایک بنیادی حصہ ہے۔