
ग़ज़लियात-ए-यगाना
عظیم آباد کا ایک نوجوان لکھنؤ کی ادبی محفلوں میں قدم رکھتا ہے اور روایت کی کھنچی ہوئی لکیروں سے بغاوت کر دیتا ہے۔ وہ اپنے لیے پہلے 'یاس' اور پھر 'یگانہ' کا تخلص چنتا ہے۔ جب وہ غالب کے سائے میں پروان چڑھنے والی کلاسیکی غزل کی زمین پر اپنے نئے افکار کی بنیاد رکھتا ہے، تو اسے ادبی سازشوں، تنقید اور مذہبی تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی رباعیات پر اسے سرِ عام رسوائی بھی جھیلنی پڑتی ہے، لیکن وہ شاعری ترک نہیں کرتا۔
اس مجموعے کی غزلیں مغل دور کی درباری روایت اور صوفیانہ اثرات کو بیسویں صدی کے سماجی، ثقافتی اور داخلی تنازعات سے جوڑتی ہیں۔ ان میں محبت اور ہجر کے مضامین کے ساتھ ایک ایسے شخص کا لہجہ ہے جو اعلان کرتا ہے، "مجھے دل کی خطا پر 'یاس' شرمانا نہیں آتا"۔ ان اشعار میں دنیا کے رواجوں، موت اور خودی کے تصورات سے سیدھا ٹکراؤ موجود ہے۔
مرزا واجد حسین یگانہ چنگیزی نے 'غالب شکن' بن کر پرانے بت توڑے اور جدید اردو غزل کی بنیاد رکھی۔ یہ مجموعہ اسی بے باک سفر کی دستاویز ہے۔























