
कलाम-ए-बेदम
کعبے کا رخ مے خانے کی جانب موڑنے کی تمنا، ساقی کی کرامت، اور بت خانے کے شوق سے بھری یہ غزلیں، بھجن، ٹھمریاں اور دادرے ایک ایسے صوفی کا کلام ہیں جس نے طاقِ بت خانہ اور محرابِ حرم کو ایک ہی نگاہ سے دیکھا۔ ان اشعار میں محبوب کے دیدار کی حسرت، ہم آغوشی کا تصور اور فنا ہونے کی طلب درج ہے۔
۱۸۷۶ء میں اٹاوہ میں پیدا ہونے والے غلام حسین کو اصل نام اور سمت ان کے پیر سید وارث علی شاہ نے دی، جنہوں نے انہیں بیدم شاہ وارثی پکارا۔ بیدم اپنا ہر نیا کلام سب سے پہلے آستانہِ وارثی پر پیش کرتے تھے۔ انہوں نے نثار اکبرآبادی سے شاعری کی تعلیم لی اور آگے چل کر اپنے مرشد کی منظوم سوانح 'پھولوں کی چادر' کے عنوان سے لکھی۔
۱۹۳۶ء میں لکھنؤ کے حسین گنج میں ان کی وفات کے بعد ان کا کلام 'مصحفِ بیدم' کے نام سے کلیات کی صورت میں محفوظ ہوا۔ 'سراج الشعراء' کا خطاب پانے والے اس شاعر کا کلام آج بھی قوالوں کی محفلوں کا بنیادی حصہ ہے۔





















