ग़ज़लियात-ए-इक़बाल

ग़ज़लियात-ए-इक़बाल

51 min
10,037 words
urhi

بیسویں صدی کے برصغیر کی سیاسی اور سماجی کشمکش کے دوران، ایک ایسا شعری نظام ترتیب پاتا ہے جو اسلامی فلسفے، تصوف اور قوم پرستی کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ان غزلوں میں کائنات کی وسعتوں کا براہ راست مشاہدہ ہے، جہاں "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں"؛ عشقِ حقیقی کے تقاضے ہیں؛ اور ذات کے ادراک کا صریح بیان ہے۔ یہاں روایتی رومانوی موضوعات کی جگہ پین اسلامزم اور مذہبی بیداری لے لیتی ہے۔

یہاں وہ اشعار موجود ہیں جنہوں نے 'خودی' کے نظریے کو باقاعدہ شکل دی۔ "کبھی اے حقیقت منتظر"، "نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے"، اور "خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں" جیسی غزلیں عقل کے بجائے عشق کو مرکز بناتی ہیں۔ ان میں انسان کی داخلی تعمیر اور اسلامی نشاۃ الثانیہ کا خاکہ کھینچا گیا ہے۔

محمد اقبال (۱۸۷۷-۱۹۳۸) کو مشرقی تہذیب اور روحانیت کے پرچار پر 'شاعر مشرق' کا لقب دیا گیا۔ برطانوی حکومت سے 'سر' کا خطاب پانے کے باوجود، ان کا کام بنیادی طور پر برصغیر کے مسلمانوں میں اتحاد کے قیام پر مرکوز رہا، اور یہ غزلیں اسی فکری تحریک کی بنیاد ہیں۔

PublisherKafka
LanguageUrdu, Hindi