मजाज़ की ग़ज़लें

मजाज़ की ग़ज़लें

22 min
4,305 words
urhi

رُدौली کے ایک زمیندار گھرانے کا نوجوان علی گڑھ پہنچتا ہے اور ترقی پسند تحریک کی صفِ اوّل میں شامل ہو جاتا ہے۔ سردار جعفری اور مخدوم جیسے ہم عصروں کے درمیان وہ انقلاب کی بات کرتا ہے، لیکن اس کی ذاتی زندگی بے روزگاری، ناکام محبت اور ذہنی دباؤ کے بوجھ تلے بکھر رہی ہے۔ لکھنؤ میں 1955 میں اچانک موت سے قبل وہ تین بار ذہنی امراض کے دورے برداشت کرتا ہے۔

اس مجموعے میں شامل غزلیں اسی کشمکش کا نتیجہ ہیں۔ یہاں روایتی عشق اور سماجی حقیقت ایک ساتھ چلتے ہیں۔ ان اشعار میں ایک طرف "حسن کو بے حجاب ہونا تھا" کی رومانیت ہے، اور دوسری طرف "آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں" کا مطالبہ۔ یہ غزلیں ایک ایسے شخص کا کلام ہیں جو دردِ دل اور شورشِ دوراں، دونوں کے درمیان توازن تلاش کر رہا ہے۔

بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں سامنے آنے والا یہ کلام اردو شاعری میں رومان اور ترقی پسند تحریک کے ملاپ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اس شاعر کا مجموعہ ہے جس کے عشق اور انقلاب نے پوری ایک نسل کو بے چین کیا۔

PublisherKafka
LanguageUrdu, Hindi